ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں جو قرآن میں نازل ہوا
![]() |
قرآن میں ہے اور وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں، انھوں نے کہا کیا آپ اس (زمین) میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتے ہیں، جو خرابیاں کرے، اور خون ریزی کرتا پھرے، اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور (پھر خدا نے فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ، اور (پھر) اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سب (چیزوں) کے نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے لائے اور فرمایا اگرتم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ ؟ تو انھوں نے کہا! تو پاک ہے، جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بے شک تو دانا ( اور ) حکمت والا ہے
تب خدا نے(حضرت آدم علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اے آدم ! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ، جب انھوں نے ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے فرمایا کیوں؟ میں نے تم سے نہ کہا تھا، کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو تم چھپاتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے، اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گر پڑے، مگر شیطان نے انکار کر دیا، اور غرور میں آکر کا فربن گیا،
اور (پھر) ہم نے کہا کہ اے (حضرت آدم علیہ السلام) تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ ( پیو)، لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے، پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے بہکا دیا، اور جس عیش و نشاط ) میں تھے، اس سے ان کو نکلوادیا ، تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانہ اور معاش ( مقرر کر دیا گیا ہے، پھر (حضرت آدم علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سکھے ( اور معافی مانگی ) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا، بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے، پھرفرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سےہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرنا، کیونکہ ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی، ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غم نا ہوں گے۔ اور جنہوں نے (اس کو ) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(سورۃ بقرہ کی آیت ۳۰ سے ۳۹)
حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں چھپیس مرتبہ آیا ہے
حوالاجات
البقرہ:30;31;32;33
الحجر:26;29;33
الکہف:50
الاعراف:13;14;15;16;17;18;19;21;23
الاسراء:62;63;64;65
طہ:115 تا 127
مریم 58
تخلیق آدم
ابلیس کی بادشاہت و امارت ارضی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے جد امجد ابو البشر سید نا آدم (علیہ السلام )کو تخلیق کیا اور یہ اس وقت ہوا جب ابلیس کی سلطنت و امارت ختم ہونے کے قریب آچکی تھی نیز اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے دل میں چھپے فخر و غرور کو فرشتوں پر آشکارا فرمانا چاہا جسے وہ نہ جانتے تھے مگر اللہ تعالیٰ جانتا تھا۔
تخلیق آدم کس مٹی سے ہوئی ؟
اللہ تعالیٰ نےجبریل( علیہ السلام ) کو زمین کی طرف مٹی لانے کے لیے بھیجازمین نے کہا ” میں پناہ مانگتی ہوں تجھ سے اس بات کی کہ تو میرے اندر سے کوئی چیز کم کرے اور مجھے عیب لگائے پس جبریل ( علیہ السلام ) واپس لوٹ گئے اور زمین سے کچھ نہ لیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر کہا اے میرے رب زمین نے آپ کی پناہ مانگی تھی میں نے اسے پناہ دے دی اس کے بعد اللہ تعالی نے میکائیل ( علیہ السلام ) کو بھیجازمین نے ان سے بھی پناہ مانگی پس انہوں نے بھی پناہ دے دی اور واپس لوٹ آئے اور وہی بات کہی جو جبریل ( علیہ السلام ) نے کہی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجازمین نے ان سے بھی پناہ مانگی مگر انہوں نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں لوٹ جاؤں اور اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کروں ۔ پس انہوں نے روئے زمین سے مٹی کی ۔
ملک الموت نے ایک ہی جگہ سے مٹی نہ لی بلکہ مختلف مقامات سے سرخ سفید اور سیاہ رنگ کی مٹی لی (یہی وجہ ہے کہ بنی آدم مختلف صفات و مزاج پر پیدا ہوئے ) ملک الموت مختلف قسم کی یہ مٹی لے کر آسمان کی طرف چڑھے اور اسے پانی سے تر کیا یہاں تک کہ وہ لیس دار مٹی بن گئی یعنی ایسی کہ یہ آپس میں چپک جاتی تھی پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ متغیر ہوگئی اور اس میں بو پیدا ہوگئی
پس آدم ( علیہ السلام ) کا انسانی شکل کا پتلا تیار کیا گیا اور پھر چالیس روز تک اسے اسی حالت میں رہنے دیا گیا ۔ فرشتوں کا ادھر سے گذر ہوا تو وہ اسے دیکھ کرگھبرا گئے اور سب سے زیادہ گھبراہٹ ابلیس پر طاری ہوئی ابلیس جب بھی اس کے پاس سے گذرتا اس کو ٹھوکر مارتا جس کی وجہ سے اس میں آواز پیدا ہوتی جس طرح ٹھیکرے پر ٹھوکر لگنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ابلیس ٹھوکر لگاتے وقت اس سے کہا کرتا کہ مجھے کس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ منہ کی طرف سے اس پتلے میں داخل ہوتا اور دبر کے راستے باہر نکل جاتا اور فرشتوں سے کہتا تم اس سے مت ڈرو تمہارا رب بے نیاز (صمد ) ہے جب کہ یہ (انسان ) اندر سے کھوکھلا ہے اگر مجھے اس پر مسلط کیا گیا تو میں اس کو ہلاک کر دوں گا۔

Comments
Post a Comment