زمین کی ابتدائی اشیاء
ابن عباس سے مروی ہے کہ آدم علیہ اسلام جب زمین پر اترے ۔ تو ان کے ساتھ جنت کی ہوا تھی جس کا تعلق جنت کے درختوں اور وادیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پس اس ہوا کی وجہ سے جنت کی خوشبو دنیا میں آتی تھی لہذا دنیا میں موجود خوشبو جنت کی ہوا کیوجہ سے ھے
آدم علیہ اسلام کے ساتھ حجر اسود بھی نازل ہوا جو اس وقت برف سے بھی زیادہ سفید تھا
عصا موسوی جو جنت کے درخت ریحان کی لکڑی کا تھا اور اس کی لمبائی دس زراع تھی یعنی موسیٰ علیہ اسلام کے قد کے برابر۔
درختوں سے نکلنے والا گوند۔
اس کے بعد لوہے کی سل، ہتھوڑا اور چمٹا نازل ہوا۔
جنت کی گندم
کہا جاتا ہے کہ جب آدم علیہ اسلام جنت سے آئے تو ان کے ساتھ گندم کی ایک تھیلی تھی بعض کہتے ہیں کہ گندم کی تھیلی جبریل علیہ اسلام لائے تھے۔ جب آدم علیہ اسلام کو بھوک لگی اور انہوں نے اپنے رب سے کھانا مانگا تو جبریل علیہ اسلام نے اس تھیلی میں سے سات دانے نکال کر آدم علیہ اسلام کی ہتھیلی پر رکھے۔ آدم علی السلام نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جبریل علی اسلام نے جواب دیا " یہ وہی ہے جو آپ کے جنت سے اخراج کا سبب بنی ان دانوں میں سے ہر ایک دانہ کا وزنایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم کے برابر تھا۔
کھیتی
آدم علیہ اسلام نے کہا کہ " میں ان دانوں کو کیا کروں۔
جبریل علی السلام نے جواب دیا " ان کو زمین میں پھیلا دو۔
جبریل علی السلام نے جواب دیا ” ان کو زمین میں پھیلا دو۔
تب آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایک گھڑی میں اس کو اگا دیا اور کھیتی اگنے کا یہ طریقہ ان کی اولاد میں بھی جاری ہے۔
پھر جبریل علیہ اسلام نے کہا «فصل کو کاٹو پس انہوں نے اسے کاٹا ۔ پھر کہا اس کو جمع کرو اور اپنے ہاتھوں سے رگڑو۔ انہوں نےایسا ہی کیا۔ پھر کھا پھونک مار کر اس کے بھوسے کواڑا دو ۔ آدم علی السلام نے پھونک مار کر اس کا بھوسہ اڑا دیا جس کے بعد صرف دانے باقی رہ گئے ۔ پھر اس کے بعد وہ دونوں دو پتھروں کے پاس آئے اور ایک کو دوسرے پر رکھا۔ آدم علیہ سلام نے ان دانوں کو پیسا، پھر حکم کے مطابق اس آٹے کو گوندھا۔ اس کے بعد جبریل علی اسلام ایک پتھر اور لوہا ( تو ا ) لائے آدم علیہ اسلام نے ان دونوں کو رگڑا تو آگ نکلی پھر حکم کے مطابق روٹی بنائی۔ یہ آگ پر تیار ہونے والی سب سے پہلی روٹی تھی ۔
ابن عباس مروی ہے کہ تین چیزیں اہرن ( نہائی) چمٹا ہتھوڑا آدم علی السلام کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھیں ۔ اور آدم کو اولاً ایک پہاڑ کی چوٹی پر اتارا گیا تھا۔ پھر پہاڑ کے دامن میں اتارا گیا اور زمین کے اوپر تمام مخلوقات جنات چوپائے پرندے وغیرہ کا بادشاہ بنا دیا۔ آدم علیہ سلام جب پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اترے تو اہل آسمان کا کلام مفقود اور فرشتوں کی آواز میں غائب ہو گئیں
پس آدم علی سلام کو حکم دیا گیا کہ وہ بیت اللہ کی طرف آئین جو ان کے لیے زمین پر اتارا گیا اور اس کا طواف کریں جس طرح انہوں نے فرشتوں کو عرش کے اردگرد طواف کرتے دیکھا ۔ اس وقت بیت اللہ ایک یا قوت یا موتی کی طرح تھا۔
معمر ابان سے روایت کرتے ہیں کہ بیت اللہ ایک یا قوت یا موتی کی شکل میں اتارا گیا پھر جب اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرقکیا تو اس ( بیت اللہ ) کو آسمان پر اٹھا لیا اور صرف اس کی بنیادیں باقی رہ گئیں، انہی بنیادوں پر اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علی سلام کو بہت اللہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ لہذا حضرت ابراہیم علی سلام نے اللہ کے حکم کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کی۔
آدم علی السلام جب زمین پر آئے تو بہت روئے اور اپنی خطا پر گریہ وزاری میں حد کر دی اور اپنی غلطی پر بہت زیادہ نادم ہوئے۔ پس آدم سرزمین ہند سے نکلے اور ان کا ارادہ اس گھر ( بیت اللہ ) کی طرف جانے کا تھا جس کی طرف جانے کا اللہ تعالی نے حکم دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ آئے اس کا طواف کیا تمام ارکان حج کو بجالائے میدان عرفات میں آدم و حوا کی ملاقات ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ پھر مزدلفہ میں حضرت آدم حوا کے قریب ہوئے اور پھر حوا کو ساتھ لے کر ہی ہند کی طرف واپس ہوئے ہند واپس آ کر انہوں نے ایک غار بنایا تا کہ اس میں رہائش اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا اس نے انہیں وہ چیز سکھائی جو ان کی ستر پوچھی اور لباس کی ضرورت پوری کرے جب کہ بعض کے بقول یہ لباس تو ان کی اولا د کا تھا اور خود ان کا لباس تو جنت کے وہی پتے تھے جو انہوں نے اپنے تن پر لیٹے ہوئے تھے۔

Comments
Post a Comment